بنگلورو،2؍مئی(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ آنے والے دنوں میں ریاست کے چار ڈویژنوں میں ایک ایک اعلیٰ معیاری سوپر اسپیشالٹی اسپتال تعمیر کرنا حکومت کے زیر غور ہے۔ آج قدوائی کینسر اسپتال میں نئی دھرم شالہ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ ریاستی حکومت کا مقصد ہے کہ عوام کو بہترین طبی سہولتیں مہیا کرائی جائیں۔ اسی مقصد کی تکمیل کیلئے تمام اضلاع میں سرکاری میڈیکل کالجس اور چار ڈویژنوں میں تمام سہولیات سے لیس سوپر اسپیشالٹی اسپتال قائم کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہر ضلع میں میڈیکل کالج اور تربیتی اسپتال قائم کرنا حکومت نے اس لئے ضروری سمجھا کہ ان میڈیکل کالجوں کے ذریعہ عوام کو بہتر سے بہتر طبی سہولتیں میسر ہوں اور ان اضلاع کے طلبا کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی سہولت بھی برابر ملتی رہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت نے سال رواں چھ میڈیکل کالجس کھولنے کا منصوبہ تیار کیا ہے ، جبکہ چھ میڈیکل کالج گزشتہ سال سے ہی کھل چکے ہیں اور یہاں طلبا کا داخلہ بھی شروع ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قدوائی کینسر اسپتال میں انفوسس فاؤنڈیشن کی مدد سے 60کروڑ روپیوں کی لاگت پر دھرم شالہ کی تعمیر ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میسور ، کلبرگی ، بلگاوی اور ہبلی دھارواڑ میں حکومت یہ سوپر اسپیشالٹی اسپتال قائم کرے گی، جہاں پر عوام کے غریب طبقات سے وابستہ لوگوں کو بہتر سے بہتر علاج مہیا کرایا جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ اسپتالوں میں علاج کروانے کیلئے آنے والے مریضوں کے ساتھ ڈاکٹر اچھا رویہ اپنائیں۔ حکومت یہی چاہتی ہے کہ جس مرض میں مبتلا ہوکر لوگ اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں ان امراض کی صحیح تشخیص ہو اور عوام کو صحیح علاج تجویز کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہمدردی ہی مریض کا کافی حد تک علاج پورا کر دیتی ہے۔ بروقت علاج کی صورت میں بہت سارے لوگوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری اسپتالوں میں علاج کے طریقۂ کارسے ناراض ہوکر لوگ بعض اوقات نجی ڈاکٹروں کا رخ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو اکثر فرضی ڈاکٹروں سے دھوکہ کھانا پڑتا ہے۔اس سلسلے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے والے تمام طلبا پر یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ اپنا ایم بی بی ایس کورس مکمل کرنے کے بعد انہیں دیہی علاقوں میں مقررہ مدت کیلئے خدمت انجام دینی چاہئے، لیکن بدقسمتی سے بہت سارے ڈاکٹر اس خدمت کو انجام دینے کیلئے آگے نہیں آرہے ہیں اس رویہ کو بدلنے کی ضرورت پرسدرامیا نے زور دیا۔اس موقع پر وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹر شرن پرکاش پاٹل نے بتایاکہ اس دھرم شالہ کی تعمیر انفوسس فاؤنڈیشن کی سربراہ ڈاکٹر سدھا مورتی کی طرف سے 60 کروڑ روپیوں کی لاگت پر کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس اسپتال میں ایک اور شعبہ کی تعمیر بھی 75کروڑ روپیوں کی لاگت پر انجام دینے کیلئے انفوسس فاؤنڈیشن راضی ہوچکا ہے۔تقریب میں سدھامورتی ، میئر جی پدماوتی، اڈیشنل چیف سکریٹری وی منجولا، اور دیگر اعلیٰ عہدیداران موجود تھے۔